غیبت کرنا کس کے لیے جائز ہے ؟

 

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ  الْجَہْرَ  بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہ* *سَمِیْعًا عَلِیْمًا*(القرآن پ ٦)

اﷲ بری بات کے زور سے کہنے کو پسند نہیں کرتے ، سوائے اس شخص کے جس پر ظلم ہوا ہو ، اور اﷲ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں (۱)

(۱) غرض کہ بری بات کا زبان پر لانا بھی براہے ؛ البتہ مظلوم کو سچائی کے دائرہ میں رہتے ہوئے ظالم کے خلاف زبان کھولنے کی اجازت ہے ؛ چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ مظلوم کے لئے ظالم کی غیبت کرنا جائز ہے ؛ کیوں کہ اس کا مقصد اپنے آپ کو ظلم سے بچانا ہے ، ( دیکھئے : احیاء علوم الدین للغزالی: ۳؍۲۰۴ ، شرح نووی علی مسلم ، : ۲؍۳۲۲ ، باب تحریم الغیبۃ) حضرت عبداللہ بن عباس ﷟  نے بری بات کہنے سے بددُعاء مراد لی ہے ، یعنی کسی مسلمان کے لئے بددُعاء جائز نہیں ، البتہ مظلوم ظالم کے خلاف بددُعاء کرسکتا ہے ۔ 

( طبری : ۶؍۳ )(آسان تفسیر  مفتی سیف اللہ خالد قاسمی)

جواب نمبر: 31560

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(ھ): 857=554-5/1432 ایسا ہی ہے۔ وتحرم غیبتہ (الذمي) کالمسلم وظاہرہ أنہ لا غیبة للحربي إھ فتاوی شامي: ۵/۲۶۳ (کتاب الحظر والإباحة) البتہ اگر اس کے کفر سے اسلام یا مسلمانوں کو ضرر کا اندیشہ ہو تو حکم بدل جائے گا یعنی ایسی صورت میں اس کی غیبت پر حرام ہونے کا حکم لاگو نہ ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

'

عنوان: کسی کے شر سے بچانے کے لئے غیبت کرنا جائز ہے؟

(2960-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک شخص مجھ سے آ کر یہ کہے کہ آپ کے محلے کے فلاں شخص کے لڑکے سے میں اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتا ہوں، آپ ان کو اچھی طرح جانتے ہیں، اس لئے آپ ان کی عادت اور کردار کے بارے میں تفصیل سے بتا دیں، تو ایسی صورت میں ان کو اس لڑکے کی تمام اچھی بری بات بتا دینا صحیح ہے یا یہ غیبت میں شمار ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ اگر اس شخص کی غیبت کرنا مقصود نہ ہو، بلکہ رشتہ کرنے والے کو نقصان سے بچانا مقصود ہو، تو اس لڑکے کی تمام اچھی بری باتوں کا ذکر کر دینا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

الدر المختار: (باب الاستبراء، 586/9، ط: زکریا دیوبند)

غیبة مجھول و متظاھر بقبیح ولمصاھرة ولسوء اعتقاد تحذیرًا منہ ولشکوی ظلامتہ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Comments

Post a Comment